Advertisements
192

ایکٹ، ترمیم اور معاہدہ کراچی تحریر :شفقت راجہ۔

تقسیم ہند 1947(دوقومی نظریہ) کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے قیام کیساتھ ہی دونوں نوزائیدہ ممالک کے درمیان ریاست جموں کشمیر و لداخ اپنی 1947کی جغرافیائی وحدت کیساتھ متنازعہ ہے جس کے اب تین منقسم حصے تین جوہری ممالک بھارت، پاکستان اور چین کے زیر انتظام ہیں۔

چین نے تو اپنے زیر انتظام حصے کو زنکیانگ و تبت کی انتظامیہ کیساتھ رکھا ہے۔ بھارت نے اپنے زیر انتظام حصے کی سات دہاہیوں سے قائم خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے برائے راست مرکزی حکومت (دہلی) کے کنٹرول میں لیکر تقریباً ضم کر لیا ہے۔ پاکستانی زیر انتظام (آزاد) جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی دو الگ انتظامی اکائیوں کو آئینی طور پر متنازعہ ریاست جموں کشمیر کے متنازعہ خطے مانتے ہوئے اور اسی نسبت سے پاکستان کا آئینی حصہ نہ مانتے ہوئے الگ خصوصی انتظامی ڈھانچے دئے گئے ہیں اور پاکستان کیساتھ رابطہ پل کیلئے وفاقی وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان موجود ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کوئی الگ خودمختار ملک نہیں ہے، اسلئے پاکستان میں بدلتی حکومتوں اور نظام حکومت کیساتھ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بھی آئینی انتظامی تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔

جس کیلئے گلگت بلتستان آرڈر 2020 اور آزاد جموں کشمیر آئین 1974 آج انکی جدید شکلیں ہیں۔ پاکستان میں صدارتی سے پارلیمانی نظام کی تبدیلی کیساتھ آزاد جموں وکشمیر میں ایکٹ 1974 کے تحت آزاد جموں و کشمیر اسمبلی اور کونسل دو ایوانی پارلیمانی مقننہ (پارلیمنٹ) قائم ہوا۔
آزاد جموں وکشمیر اسمبلی کی انچاس (49) نشستوں میں آزادکشمیر کے عوام انتیس (29) اور ریاستی مہاجرین مقیم پاکستان بارہ (12) ممبران اسمبلی کو عام انتخابات میں منتخب کرتے ہیں جبکہ مخصوص نشستوں پر پانچ خواتین اور ایک علما مشائخ، ایک ٹیکنوکریٹ اور ایک سمندپار نمائندگی کیلئے ممبران کو اسمبلی کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔
آزادجموں کشمیر کونسل میں صدر اور وزیر اعظم آزادکشمیر کے علاوہ چھ (6) ممبران کونسل کو آزادکشمیر اسمبلی منتخب کرتی ہے جبکہ وفاقی وزیر امور کشمیراور وزیراعظم پاکستان کے علاوہ پانچ ممبران وزیراعظم پاکستان کے نامزد کردہ ہوتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان ہی کونسل کا چیرمین بھی ہوتا ہے۔پاکستان کے وزیراعظم، وزیرامورکشمیر و گلگت بلتستان اور دیگر پانچ (5) نامزد ممبران جو کہ وفاقی وزرا یا ممبران پارلیمنٹ ہوتے ہیں، انکی موجودگی میں آزادجموں و کشمیر سے ممبران کونسل کی حیثیت میں فرق واضع ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر ایکٹ 1974 کے مطابق باون (52) امور پر قانون سازی اور انتظامی لحاظ سے بھی مکمل اختیار کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی اور حکومت کی بے اختیار حیثیت بھی کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔
آزاد کشمیر حکومت کی بے اختیاری اور کلیدی انتظامی عہدوں پر وفاق سے لینٹ افسران کی تعیناتی کا یہ فارمولا حکومت پاکستان اور حکومت آزادکشمیر کے درمیان ہونے والے 28 اپریل 1949 کے معاہدہ کراچی میں طے ہوا تھا۔ جس کے بعد مختلف ادوار میں مختلف قسم کے رولز آف بزنس اور ایکٹ بھی آتے رہے ہیں اور ایکٹ 1974 تیرہویں ترمیم کیساتھ آزاد کشمیر کا رائج الوقت آئین ہے۔آزاد جموں وکشمیر کونسل اور اسمبلی (بشمول حکومت) کے درمیان اختیارات میں تفریق کا سوال ہمیشہ سے رہا اور ہر دور کی (آزاد کشمیر) حکومتیں بااختیار بننے کیلئے ترامیم کا مطالبہ لاتی رہی ہیں جس کی شنوائی آخرکار تیرہویں ترمیم 2018 میں ہوئی۔

تیرہویں ترمیم 2018 میں کونسل کے ان اختیار و کردار کو کم کرتے ہوئے ایڈوائزری باڈی(مشاورت) بنایا گیا جبکہ قانون سازی و انتظامی اختیارات کے امور کو پارٹ(A) اور پارٹ (B) میں تقسیم کیا گیاتھا۔ پارٹ (A) میں شامل امور پر مکمل اختیار حکومت پاکستان کے پاس جبکہ پارٹ (B) پر وزیراعظم پاکستان کی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے آزادکشمیر اسمبلی (اور حکومت) کو حصہ دار بنایا گیا۔ آزادکشمیر میں ٹیکس ریونیو کے نفاذ اور وصولی کا اختیار حکومت آزادکشمیر کو ملا تو ریاستی حکومت کافی حد تک خودکفیل ہونے میں کامیاب ہوئی ہے۔ 2018 سے پاکستان میں پی ٹی آئی (عمران خان) جبکہ آزادکشمیر میں مسلم لیگ(ن) اپنے تقریباً چار سال مکمل کرنے کو ہے۔ مرکزی حکومت پاکستان کی طرف سے مجوزرہ آئینی ترمیم 2020 کا ابتدائی مسودہ آجکل ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں زیربحث ہے۔ مذکورہ مجوزہ چودہویں ترمیم کو تقریباً تیرہویں ترمیم ہی کی نفی کہا جا سکتا ہے کیونکہ اعلی عدلیہ میں ججز کی تقرری کے علاوہ یہ ترمیم مجموعی طور پرکشمیر کونسل کا وہی اختیار اور کردار بحال کرنے کی غماز ہے جو تیرہویں ترمیم سے پہلے ہوا کرتا تھا اور جس سے آزادکشمیر اسمبلی اور حکومت کی حیثیت پھر سے پہلے کی طرح دکھاوے تک محدود ہو سکتی ہے۔ ایسے موقع پر کہ جب ہندتوا ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بھارتی سرکار نے اپنے زیرانتظام متنازعہ ریاستی خطے کی خصوصی حیثیت کو غیرقانونی طور ختم کرتے ہوئے اس پر فوجی قبضے کے علاوہ اپنا آئینی و انتظامی قبضہ بھی مکمل کر لیا ہے اور جس کے خلاف ریاست کے آرپار اور بیرون ملک مقیم باشندگان ریاست کی طرف سے شدید احتجاج اور مسلسل غم و غصے کا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

ان حالات میں حکومت پاکستان کی طرف سے مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ بھی ریاستی عوام کے کان کھڑے کرنے کا موجب بنا ہے اور قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔بھارتی توسیع پسندی میں جابرانہ قبضے، بھارت چین تناو اور پاک بھارت کشیدہ تعلقات کی وجہ سے خطے کے حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ بے موقع حماقتوں کی بجائے گلگت بلتستان اور آزادجموں و کشمیر میں مثبت اور سازگار فضا قائم رہے جس کیلئے ان خطوں میں متنازعہ حیثیت کے مطابق بااختیار آئین اور انتظام تشکیل دیا جائے ۔تیرہویں ترمیم نے آزاد کشمیر کو آزاد ریاست نہیں بنایا محض کشمیر کونسل کے آسیبی سائے اور اعصابی بوجھ سے کچھ دور کیا ہے ، اب وہ بھی چند افراد کیلئے شائد قابل برداشت نہیں ہے حالانکہ وہ اختیارات بالواسطہ یا بلا واسطہ گزرے کل اور آج بھی حکومت پاکستان ہی کے پاس ہی رہے ہیں۔

آزاد کشمیر کے نظام میں بہتری لانے اور اسے پاکستان کے دیگر صوبوں کے ہم پلہ بنانے کیلئے کیبینٹ ڈویژن (پاکستان) 1971 کے ایک منصوبے میں آزادکشمیر کو دیگر صوبوں کی طرح ہی انتظامی اکائی ماننے کی ہدایات شامل ہیں، تیرہویں ترمیم میں دراصل اسی کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ پاکستان کے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری قائم ہو گئی تھی تو پھر متنازعہ ریاست جموں کشمیر کے پاکستانی زیرانتظام خطے گلگت بلتستان و آزادکشمیر بھی ان صوبوں سے زیادہ نہ سہی البتہ ان کے مساوی ہی سہی مگر اپنی خصوصی متنازعہ حیثیت کیساتھ زیادہ سے زیادہ اختیارات کے متقاضی ضرور ہیں۔
بھارتی زیر قبضہ جموں کشمیر اور پورے خطے میں کشیدہ حالات کے پیش نظر گلگت و مظفرآباد کے نظام کا سرینگر سے مختلف نظر آنا اشد ضروری ہے۔ بھارت نے جب اپنے زیرقبضہ ریاستی حصے کو دومزید حصوں میں تقسیم کر دیا ہے تو وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے تنازعہ جموں کشمیر کی موجودگی میں حکومت پاکستان اور حکومت آزادکشمیر کے درمیان رشتے کو نئے معاہدے کے تحت نئے سرے سے آئینی طور استوار ہونا چاہئے، اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ خطوں کیلئے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ترجیحی حیثیت اور سیاسی سماجی اور معاشی حقوق کی ضمانت پر آزادکشمیر و گلگت بلتستان کا مشترک (یا الگ) اپنے وسائل پر دسترس کیساتھ بااختیار و باوقار نظام قائم ہونا چاہئے جس میں وہاں کے منتخب نمائندے اپنے معروضی حالات کے مطابق آئینی و انتظامی ماڈل تشکیل دے سکیں ۔ آزادکشمیر کے سیاسیات و سماجیات سے جڑے باشعور طبقہ کو عوامی حقوق کی نشاندہی اور ریاستی شہریوں کو پرامن اور مہذب انداز میں ان حقوق کیلئے مطالبہ رکھنا چاہئے۔ اقتدارپسند سیاستدانوں، بے اختیار ممبران اسمبلی اور حکومت کو بھی اپنے جائز حقوق کیلئے معافی دار کی بجائے حقدار و ذمہ دار کردار اپنانا چاہئے اور اپنے ضمیر کو جگانے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے کیونکہ انکا آج کا کردار کل تاریخ کا حصہ بھی بنے گا۔ آزادکشمیر و گلگت بلتستان کی محرومی اور پسماندگی سے نجات کیلئے آئے روز نئے آرڈر، ایکٹ، آئین اور ترمیم کے تجربات کی بجائے انکے ماخذمعاہدہ کراچی میں طے شدہ اس بوسیدہ ڈھانچے میں ترمیم فرض ہو چکی ہے کیونکہ آزادکشمیر (و گلگت بلتستان) کا یہ مسلہ درحقیقت وہیں پر الجھا ہوا ہے شائد اسی لئے موجودہ وزیراعظم فاروق حیدر خان نے اپنی ستم ظریفی سے تنگ آ کر معاہدہ کراچی کے ذمہ داروں کی قبروں پر سوٹیاں برسانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

اب وہی مسلہ ایک بار پھر انکی موجودہ حکومت کے سامنے آن کھڑا ہوا ہے اور اگلے سال انتخابات بھی متوقع ہیں۔ حکومت کا آج کا فیصلہ ان انتخابات کیلئے بھی فیصلہ ساز ثابت ہو سکتا ہے۔ چار سال سے قائم آزادکشمیر کی موجودہ حکومت اور اسمبلی ممبران نے اگر آزاد کشمیر اور اسکے عوام کی خواہشات، خطہ کی آئینی حیثیت اور شناخت پر سمجھوتہ کر لیا تو اب شائد یہ عوام اپنے ان منتخب نمائندوں کے اعمال پرسوٹیاں برسانے کیلئے ان نمائندوں کے مقبروں میں اتر جانے کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ شائد زندہ قوموں کی طرح انکی زندگی میں ہی انصاف بھی کر سکتے ہیں۔
ذرا سوچئے ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں