Advertisements
227

کیا ریاست کے ليے کوئى وینٹی لیٹر موجود ہے تحریر : سردار ابرار صغیر ۔

کورونا ایک ایسی وبا جس نے انسانوں کو تو نقصان پہنچایا ہی پہنچایا مگر ساتھ ساتھ ملکی معیشت بھی لے ڈویبی اس وقت ساری دنیا میں ایک نیا مسئلہ گردیش عام ہے گرتی معیشت کو کیسے سنبھالہ جائے اپنے اپنے ملکوں کو کیسے پاوُں پہ دوبارہ کھڑا کیا جائے اسی طرح پاکستان میں بھی یہی حال ہے پاکستان جہاں کورونا مریضوں کے لئے وینٹی لیٹرز دستیاب نہیں ، کیا معیشت کے لئے کوئی وینٹی لیٹر موجود ہے ۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار شرح نمو منفی ہو چکی ہے ، مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بنک دونوں ایک ایجنڈے کے تحت قومی معیشت کی آخری رسومات ادا کرنے آئے ہیں حفیظ شیخ معیشت کی خرابی کا ملبہ پچھلی حکومتوں پر ڈالتے ہیں حالانکہ پچھلی حکومتوں میں تو وہ خود رہے ہیں اور اس وقت بھی معاشی تنزل کا ذمہ دار پچھلی حکومت کو قرار دیتے تھے

جبکہ اس وقت بھی وہ کسی پچھلی حکومت کاحصہ ہی ہوتے تھے ان کے پاس کوئی پالیسی تو ہوتی نہیں البتہ گھڑے گھڑائے فارمولے ضرور ہوتے ہیں ، جنہیں وہ بوقت ضرورت آزماتے رہتے ہیں لوگ تو اس بات پر بھی حیران ہیں کہ عمران خان اپنی انتخابی تقریروں میں دعوی کیا کرتے تھے کہ ان کے پاس دو سو ماہرین اقتصادیات موجود ہیں ، جو حکومت بنتے ہی ملک کو اوپر اٹھانے میں اپنا کردار ادا کرینگے ، وہ اسد عمر کو بھی اپنا اقتصادی وکٹ پر اوپنر کھلاڑی بنا کر پیش کرتے تھے ، مگر یہ اوپنر بھی بری طرح ناکام ہوا اور پھر دو سوماہرین بھی ناکام ہو گئے پھر بطور نام حفیظ شیخ کو درآمد کرنا پڑا ، جن کا آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سےتعلق بہت پرانا ہے اور ان کی ہر بات بغیر چوں چرا کے ماننے کا شاندار ریکارڈ رکھتے ہیں

ان دعوؤں کی حقیقت تو بعد میں کھلے گی کہ کورونا کے باوجود حکومت نے ایک شاندار بجٹ پیش کیا ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس بھی نہیں لگایا گیا مگر اصل سوال یہ ہے کہ جوں جوں وقت آگے بڑھے گا اور کساد بازاری نیز خراب معاشی حالات کی وجہ سے حالات جب خراب ہوں گے تو حکومت کیا لائحہ عمل اختیار کرے گی ۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے تو پہلے ہی خبر دار کر دیا ہے کہ حکومت آنے والے دنوں میں مزید کئی ضمنی بجٹ پیش کرے گی ، خو د حفیظ شیخ بھی یہ کہ چکے ہیں کہ بجٹ کوئی صحیفہ نہیں ہوتا کہ جس میں ترمیم نہ کی جا سکے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے چند ماہ میں آئی ایم ایف مزید دباؤ ڈال سکتا ہے اور بجلی ، گیس کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافے کی کوئی نئی قسط سامنے آسکتی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر کی طرح پاکستانی معیشت بھی شدید دباؤ میں ہے قرضوں میں جکڑی ہوئی معیشت کے لئے اس بار بھی کئی ہزار ڈالر کا قرضہ لینا پڑے گا،جبکہ پرانے قرضوں کی ادائیگی بھی ایک بڑاسر درد ہے مگر اس کے باوجود ایسا کوئی اقدام نظر نہیں آتا کہ جس سے یہ امید کی جا سکے کہ معیشت کی سمت بہتر ہوجائے گی زراعت جو قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے ، بجٹ میں کہیں نظر نہیں آتی ، ساری مراعات صنعتی شعبے کو دی گئی ہیں یا پھر کنسٹرکشن سیکٹر کو نوازا گیا ہے ، زرعی شعبے کی ترقی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے ، ظاہر ہے اس کے لئے کاشت کاروں کو آسان شرائط پر قرضے ، ٹیکسوں میں چھوٹ اور سستی کھادیں بھی دی جانا ضروری ہیں لیکن آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک نے کبھی بھی کسی حکومت پر یہ دباؤ نہیں ڈالا کہ وہ اپنے زرعی شعبے کو اہمیت دے ، حکومتیں بھی آنکھیں بند کر کے ان کی ہدایات پر عمل کرتی رہی ہیں

اس وقت حکومت کے سامنے دو بڑے چیلنج ہیں ، ایک کورونا وباء پر کنٹرول اور دوسرا معیشت کی بحالی تلخ حقیقت یہ ہےکہ ان دونوں شعبوں میں حکومت تذبذب کا شکار نظر آتی ہے بجٹ میں پہلے سے مراعات یافتہ طبقہ کو مزید مراعات دی گئی ہیں بعض سیکٹر ز کو اربوں روپے کی سب سڈی بھی دی جارہی ہے حالانکہ ان کا عوام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں پاکستان میں بلواسطہ ٹیکسوں کی چوری ہمیشہ عوام کو دیا کرتی ہے کیونکہ سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کے
ٹیکسوں کا بوجھ بھی وہی اٹھارہی ہے جنرل سیلز ٹیکس ایک ایسا ہتھیار ہے جسے سرمایہ دارانہ نظام نے عوام پر ستم ڈھانےکے لئے ایجاد کیا ہے اس ٹیکس کے تحت ایک غریب آدمی بھی اتناہی ٹیکس دیتا ہے ، جتنا کوئی ارب پتی اشیائے خورد و نوش پر جنرل سیلز ٹیکس بھی یکساں شرح سے ادا کرتے ہیں جو سراسر نا انصافی ہے اگر حکومت براہ راست ٹیکسوں میں اضافہ اور جنرل سیلز ٹیکس میں کمی لائے تو عوام کو ایک بڑا ریلیف مل سکتا ہے مگر آئی ایم ایف کبھی اس کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی حکومتی مشیروں میں اتنی سکت ہے کہ وہ معاشرے کے بالادست طبقوں سے براہ راست ٹیکس وصول کر سکیں عمران خان تو کہتے تھے کہ میں نے اقتدار میں آتے ہی غریبوں کو اوپر اٹھانا ہے جنرل
سیلز ٹیکس کے نظام سے تو غریب کبھی اوپر نہیں اٹھ سکتے یہ سرمایہ دارانہ نظام کا ہتھکنڈہ ہے ، جس کا مقصد غریبوں کوچھپے ہوئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا کر غربت سے اوپر نہیں اٹھنے دینا ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب کورونا کی وجہ سے بےروز گاری بڑھے گی ، غربت میں اضافہ ہوگا ، عوام کی قوت خرید کم ہو جائے گی ۔ تو جنرل سیلز ٹیکس سے حاصل ہونےوالی آمدنی کا ہدف کیسے پورا ہو سکے گا اس کا تو الٹا اثر یہ ہو گا کہ عوام مہنگی اشیاء خریدنے سے محروم ہو جائیں گے اور حسرت و یاس کی تصویر بنے انہیں دور دور ہی سے دیکھ سکیں گے۔

اس بار وزیر اعظم عمران خان کے پاس یہ اچھا موقع تھا کہ کورونا کے باعث غیر معمولی حالات میں وہ انقلابی بجٹ کی ہدایت کرتے ٹیکسوں کا نیٹ بڑھانے کی پالیسی پر زور دیتے اور ایسے طبقوں سے ٹیکس وصولی کا ہدف دیتے جو ٹیکس
دینے کی استعداد رکھتے ہیں صرف یہ کہہ دینے سے بات نہیں ہو گی کہ حکومت نے ٹیکس فری بجٹ پیش کیا ہے ٹیکسوں کی بھر مار میں ڈوبے ہوئے بجٹ کو ٹیکس فری کہنا ایک ظالمانہ اقدام ہے نئے ٹیکس نہ لگانے کا کریڈٹ لینے والے یہ توبتائیں کہ آخر نئے ٹیکس کی گنجائش ہے کہاں ، عوام کو تو چاروں طرف سے ٹیکسوں میں جکڑ دیا گیا ہے اصل
ضرورت تو اس بات کی ہے کہ ٹیکسوں کے نظام میں بنیادی تبدیلی لائی جائے ۔ جب تک یہ سٹر کچرل تبدیلی نہیں لائی جاتی یہ کہنا کہ غربت میں کمی آجائے گی ، ایک بے بنیاد مگر دل خوش کن دعوی ہے کسی ملک کی معیشت اس وقت مضبوط ہوتی ہے ، جب اس کے عوام میں قوت خرید موجود ہو ۔ پاکستانی عوام کی قوت خرید اب وینٹی لیٹر پر ہے کورونا نے اسے مزید نازک حالت تک پہنچا دیا ہے اب ایک طرف کورونا کے بے قابو ہونے کی دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آرہی ہیں اور دوسری طرف عام آدمی کے معاشی حالات بدتر بدتر ہوتے جارہے ہیں کیا موجودہ قومی قیادت میں اتنا دم خم اور بصیرت ہے کہ قوم اور معشیت کی دوبتی کشتی کو اس مشکل وقت سے نکال کر کسی محفوظ کنارے تک پہنچا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں