Advertisements
رشید مِصباح زندہ ہے تحریر: فہیم عامِر 197

رشید مِصباح زندہ ہے تحریر: فہیم عامِر

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں، اُجالا ہے
میں ارتقاء پریقین رکھتا ہوں مگر مجھے یقین ہےکہ بڑے لوگ مرتے نہیں۔ گویا ۔۔۔۔ ’’گور پیا کوئی ہور‘‘۔
رشید مصباح کی وفات کی خبر ملی تو افسوس کرنے والوں کا ٹیلیفون پر تانتا بندھ گیا۔ بائیں بازو کی تمام جماعتوں اور گروپوں کے لوگ، انجمن ترقی پسند مصنفین کے ساتھی اور پھر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پاکستان انقلابی پارٹی جو حیاتیاتی حوالے سے تو نہیں مگر نظریاتی حوالے سے رشید مصباح کی اگلی نسل ہیں۔
میں نے آج تک کبھی بھی، کسی کے حوالے سے کوئی تعزیئتی مضمون نہیں لکھا اور آج رشید مصباح پر بھی یہ مضمون اُن کی موت کے حوالے سے نہیں بلکہ اُن کی ذندگی کی حوالے سے ہے۔ وہ بھرپور ذندگی جو اُنہوں نے مارکسی جدوجہد کی نذر کر دی۔ اپنا خاندان، مال اسباب اور دیگر کئی دنیاوی آسائش و آرام کی چیزیں تو وہ کبھی بھی حاصل کر سکتے تھے مگر مارکس جو اُن کی رگ رگ میں شامل تھا، سٹالن جو اُن کے بازوؤں میں قیام کرتا تھا اور ماؤزے تنگ جو ہمہ وقت اُن کے ساتھ ساتھ رہتا تھا، ان سب نے کبھی رشید مِصباح کو آسائش و آرام کا سوچنے ہی نہیں دیا۔
فیاض ملک نے اپنی کتاب جو اُن کے ایم فل کا مقالہ بھی ہے اس میں تفصیل سے لکھا ہے کہ کس طرح شوریدگی اُن کی سرشت کا حصہ بنی۔ فیصل آباد کی گلیوں سے لے کر لاہور تک اور پھر انڈیا کے لاتعداد دوروں تک کِس طرح وہ ہر مقام پر کبھی ادبی سطح پر، کبھی سیاسی سطح پر اور کبھی خاندانی سطح پر اپنے مضبوط نظم و ضبط کا مُظاہرہ کیا کرتے اور اُن کے اسی مارکسی نظم و ضبط نے اُن کے بہت سے دوست ناراض کر دئیے مگراُنہیں اپنے دوستوں، اپنے خاندان اور اپنے ساتھیوں سے اس کی محبت پر بہت اعتماد تھا۔ وہ مُجھ سے اکثر کہا کرتے کہ جس دن یہ سب پتھر کے پیچھے بہنے والے محبت کے جھرنے کی آواز سن سکیں گے، انہیں میری ان سے محبت کا اندازہ ہو جائے گا۔ رشید مصباح اپنی ایک تخلیق ’’انتشار کا کنارہ میں لکھتے ہیں کہ،
’’میں دراصل آدمی ہی ایسا ہوں کہ سیدھی بات کا جواب بھی سیدھا نہیں دیتا‘‘۔
یہ ان کی گفتگو اور تحریر میں پائے جانے والی کاٹ اور تہہ داری تھی، جو ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ وہ اپنی اِس طبیعت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے۔ پاکستان انقلابی پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں اگر کوئی حکمتِ عملی کے حوالے سے بھی ذرا نرمی برتنے کو کہتا تو رشید مصباح اسے سخت تنقید کا نشانہ بناتے۔ یوں بھی انجمن ترقی پسند مصنفین میں انہیں ’’بے رحم تنقید نگار‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہیں مصلحت پسندی پر کوئی لالچ اور کوئی ایجنسی قائل نہیں کر سکی۔ باقیوں کو تو چھوڑیئے خود مجھے جسے تمام احباب ان کا فکری وارث سمجھتے ہیں، سب سے ذیادہ بے رحم تنقید کا نشانہ بناتے۔
خانیوال کے گاؤں شانتی نگر پر میری ایک رپورتاژ سن کر خاموش ہو رہے۔ میں تنقید کا منتظر تھا کہ سگریٹ کا ایک گہرا کَش لگا کر بولے،
’’ تسی یوپی چ جمے سؤ، یا شانتی نگر یوپی چ اے؟‘‘
(آپ یو پی میں پیدا ہوئے تھے یا شانتی نگر یوپی میں ہے)
میرے تاثرات دیکھ کر بولے کہ زبان میں جب تک دوسرے لہجوں کا آہنگ شامل نہیں ہوتا، زبان کھڑے پانی کی طرح ہو جاتی ہے۔ مجھے سمجھ میں آئی اور اس کے بعد میں نے اپنے ایک افسانے ’’ایک نگر کی کتھا‘‘ کی زبان کی منظوری مصباح صاحب سے لے کر چھپوائی۔
اسی طرح ایک اجلاس میں میں یہ کہہ بیٹھا کہ،
’’History repeats itself‘‘
تو بولے،
If history repeats itself then Darwin was never born
یار ایہہ ضرب المثال کِسے سائنٹیفک تھیوری توں نئیں آندیاں ایس لئی ایہناں نو quote نہ کریا کر۔
(یار، یہ ضرب الامثال کسی سائنٹیفک تھیوری سے جنم نہیں لیتیں، اس لئیے ان کا حوالہ مت دیا کرو‘‘۔
ایسی بہت سی باتیں ہیں، جن کو پھر کبھی ضرور لکھوں اور جلد از جلد لکھوں گا کیونکہ مصباح صاحب بھی بہت سی یارداشتیں لکھنا چاہتے تھے خصوصاً قرآت العین حیدر، سبطِ حسن، ظہیر کاشمیری، افضل احسن رندھاوہ اور کئی دوستوں کے متعلق مگر اب وہ شائد سینہ گزٹ میں ہی شایع ہو پائیں گی۔
مگر ہو سکتا ہے کہ ان کے افسانوں کا مجموعہ ہم دوست شایع کروا پائیں جو اکادمی ادبیات کے مہینوں دیر سے ادایگیؤں کے باعث شایع نہ ہو سکا۔ وہ اسی ماہ میں شایع ہونا تھا۔ آہ، یہ بھی ایک ذمہ داری ہے جو رشید مصباح ہم پر چھوڑ گئے ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ این ایس ایف پاکستان نے جب ظہیر کاشمیری کا صد سالہ جشنِ پیدائش منایا تو اس کی تمام تر ذمہ داری مصباح صاحب پر ڈال دی گئی۔ اس میں مجھے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سونپتے ہوئے یہ ہدایت بھی کی کہ ذیادہ وقت نہ لوں بلکہ مقررین کو وہ وقت دوں۔ حکمِ مصباح، مرگِ مفاجات، مگر پروگرام انتہائی کامیاب ہوا کہ ذیادہ گفتگو خاور نعیم ہاشمی، اسلم گورداسپوری، شوکت عمر پیرزادہ، نیلم احمد بشیر اور خود رشید مصباح نے کی۔
خیر ان کے ساتھ کئیے گئے پروگراموں اور نشستوں کی فہرست تو بہت لمبی ہے۔ اتنی ہی لمبی جتنی انہوں نے عمر پائی۔ جی ہاں، انہوں نے ایک لمبی عمر پائی کیوں کہ انہوں نے جینا بہت جلد سیکھ لیا تھا۔ 1970 میں تو وہ باقاعدہ این ایس ایف کے کارکن تھے۔ پھر پارٹی میں چلے آئے اور بائیں بازو کے جینوئین گروپوں کو اکٹھا کرنے میں لگے رہے۔ ادبی سطح پر بہت کام کیا، جن میں ابھی بہت کچھ شایع ہونا باقی ہے، انجمن ترقی پسند مصنفین کی تطہیر میں کل تک لگے رہے۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ مجھے خوب ڈانٹ ڈپٹ کی۔ واقعہ یہ ہے کہ پاڑہ چنار میں زمینوں کے قبضے کے معاملے پر مجھے ایک پریس ریلیز جاری کرنا تھی جس میں تاخیر ہو رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن ہو یا کچھ بھی پاڑہ چنار کے لوگوں کی تحریک اور آخوروال کے کان کنوں کی تحریک کو بلوچستان کے عوام اور طلبہ کی تحریک سے جوڑنا ضروری ہے اور اس وقت یہ کام میڈیا ہی کر سکتا ہے۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ جب تک این ایس ایف کے نوجوان کراچی کے شپ یارڈ کے لوگوں کے مسائل کو فاٹا کے کان کنوں سے اور بلآخر پنجاب اور سندھ کے کسانوں سے نہیں جوڑتے انقلاب کا سپنا کبھی پورا نہیں ہوگا۔
ہاں، یہ دکھ تو ہے کہ وہ اس سپنے کو سوئیکار ہوتے نہیں دیکھیں گے مگر یہ بھی سچ ہے کہ وہ سپنا پورا ہوگا۔ پاکستان انقلابی پارٹی جدوجہد کو جس سطح پر لے آئی ہے، اب عوامی جمہوری انقلاب کی منزل دور نہیں۔ سو، جب تک ہماری جدوجہد جاری ہے، رشید مصباح زندہ ہے۔ جب تک پاکستان میں این ایس ایف ہے، رشید مصباح زندہ ہے۔ بس اتنی سی بات ہے کہ
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں، اُجالا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں