Advertisements
182

تا دمِ آخر لڑنے والا، رشید مِصباح تحریر: جمیل بلوچ۔

اپنوں سے بچھڑنا ہمیشہ اذیت ناک ہوتا ہے لیکن ایک ایسے شخص کی جدائی اور بھی تکلیف دیتی ہے جس سے آپ نظریاتی طور پر جڑے ہوئے ہوں ۔ دو جولائی کو جب خبر سنی تو یقین نہ آیا۔ اِدھر اُدھر سے پوچھا کہ شاید خبر جھوٹی ہو، کل تک ہنسنے بولنے والا سپاہی بیچ راہ میں چھوڑ کر ہر گز رخصت نہیں ہو سکتا لیکن ہر کوشش بے سود، خبر اٹل اور پکی تھی کہ ہمارا گائیڈ اب ہمارے ساتھ نہیں رہا۔ اب لاہور اجڑ چکا ہے۔

اسٹڈی سرکل جیسے ان کے بنا ادھورے ہیں، اسٹیج ان کے بنا سنسان لگتا ہے۔ اب رشید مصباح ہمیشہ کےلیے ہمیں الودع کہ کر چل دیئے۔
وہ ہر انسان دشمن سوچ کے آگے ڈھال تھے۔ وہ ایک عملی انسان تھے، اپنا تن من دھن سب انسانیت پر قربان کرنے والا کوئی بدھا تھے۔ وہ زنجیروں کو توڑنے والا ہتھوڑا تھے جو خود چوٹ کھا کر لوگوں کو آزاد کرتا ہے۔ کبھی ہمت نہ ہارنے والا انسان، کبھی مایوس نہ ہونے والا کامریڈ، سرمایہ دار کو آنکھیں دکھا نے والا شیر!
وہ خود اپنی سوچ میں کلئیر تھے، بس فکر تھی تو انسانیت کی۔۔۔۔ فکر تھی تو غریب ہاری و مزدور کی۔ وہ کبھی اپنی عیش کا نہیں سوچتے تھے۔ جہاں کہیں ترقی پسند مجمع لگتا ، یہ وہاں پہلے سے موجود ہوتے۔ ایک نہ تھکنے والے انسان تھے، ہمیشہ فرنٹ لائن میں کھڑے ہو کر کام کرتے۔ اپنی پوری زندگی جدوجہد میں گزارنے والے سیاسی انسان تھے، وزارتوں، امارتوں، سفارتوں سے متاثر ہوئے بغیر، سرخ رنگ تھامنے والے پاکستان کے چے گویرا تھے۔
یہ حقیت ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام کر چکا تھا، وہ بھلے ہم سے رخصت ہو گیا لیکن اس کا نظریہ زندہ ہے۔
پاکستان انقلابی پارٹی کی بھاگ دوڑ میں پیش پیش رہے، اسٹیج پر جب نعرہ لگاتے تو ایسے لگتا کہ جوانوں کے خون سے زیادہ ان کے خون میں جوش بھرا ہے، اور وہ انقلاب کو اپنی آنکھوں سے آتا دیکھ رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ ایکٹو رہے۔ عورت مارچ ہو یا مزدوروں کی ہڑتال، رشید مصباح فرنٹ لائن میں ہوتے۔ وہ عملی لیڈر تھے، خود بھی عمل پر یقین رکھتے اور ہمیں بھی ہمیشہ جہد مسلسل کی تلقین کیا کرتے تھے۔
میں نے اور مصباح نے تو کب کا ںظریاتی دوستی کا تالا لگا کراس کی چابی کہیں دور کسی ندی میں پھینک دی تھی اور اس دوستی کا عہد کیا تھا۔ آج بھی ہم نظریاتی بندھن سے آپس میں بندھے ہوئے ہیں۔ میں اس دوستی کے ہر شرط پر آج بھی قائم ہوں اور وہ شرط ہے انسان دوستی کی، انسانیت پر ہونے والے ظلم کےلیے آواز بلند کرنے کی، انسانیت کے قتلِ عام کو ہونے سے روکنے کی۔
میرے لیے تو جیسے وہ میرا سایہ تھے۔ مجھے جب بھی مشکل درپیش آتی سب سے پہلے رشید مصباح کا نمبر ڈائل کرتا اور وہ بھی بلا جھجھک کھل کر ہر مسئلے پر بات کرتے۔ آج بھی کبھی غیر ارادی طور پر موبائل پر ان کا نمبر آتا ہے تو ڈائل کر دیتا ہوں لیکن آگے اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا ، مایوس ہو کر ان کے ساتھ گزرے لمحوں کو یاد کرتاہوں ۔ کبھی اسٹڈی سرکل لے کر تربیت کرتے تھے تو کبھی اپنی لکھی ہوئی کتابیں گفٹ کرتے تھے۔ وقت کے پابند انسان، کہیں کوئی سرکل ہوتا تو کامریڈ ہمیشہ پانچ منٹ پہلے وہاں موجود ہوتے۔
میں ان کے بنا ادھورا تو ہو چکا ہوں لیکن ان کے نظریے نے یہ یقین دلایا کہ انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہئیے۔ ہمیں سپاہی سے لیڈر بننے تک کے سفر کو جاری رکھنا ہے۔ شاید میں یا میرے جیسا کوئی بھی کامریڈ رشید مصباح کے خلاء کو پر تو نہیں کرسکتا لیکن ہم میں سے ہر شخص اس کے نظریے پر عمل کرتے ہوئے اس صف میں کھڑے ہونے کےلیے تیار ہے۔
انقلابی لوگ ہمیشہ ایک سوچ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح کامریڈ رشید مِصباح بھی یہ سوچ چھوڑ کر چلے گئے کہ انسان کو خواہ جتنے بھی مصائب و تکالیف کا سامنا ہو جدوجہد نہیں چھوڑنی چاہئے۔ جیسے کامریڈ آخری سانسوں تک انقلاب کےلیے لڑتے رہے اسی طرح ہم میں سے ہر نظریاتی انسان کو تادم آخر لڑتے رہنا چاہئے اور اپنے نظریے پر ہر گز کمپرومائز نہیں کرنا چاہئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں