Advertisements
معاہدہ کراچی اور ایکٹ 74 غلامی کا طوق، ہر صورت اُتار پھیکنیں گے۔ ایس ایل ایف۔ 386

معاہدہ کراچی اور ایکٹ 74 غلامی کا طوق، ہر صورت اُتار پھیکنیں گے۔ ایس ایل ایف۔

کشمیر میں بہنے والے قدرتی دریاوں کا رخ موڑنے اور غاصبانہ قبضے کے خلاف بھرپور مزاحمتی کردار ادا کریں گے 

راولاکوٹ (جے کے نیوز ٹاکس )

جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کا ایک انتہائی اہم اجلاس 5 جولائی بروز اتوار منعقد ہوا جس میں تنظیم کے قائدین اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی
اجلاس میں ریاست جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال اور ریاست کی ممکنہ بندر بانٹ کا تفصیلی جاٸزہ لیا گیا
شرکا ٕ اجلاس کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال جس میں ریاست کے ایک حصے قابض ملک بھارت نے اپنے مستقل قبضے کا اعلان کیا تو دوسری ریاست جموں کشمیر کے ایک حصے پر قابض ملک (پاکستان) جو دنیا میں خود کو کشمیریوں کی وکالت کا دعویدار گردانتا ہے کا بھیانک چہرہ نہ صرف بری طرح بے نقاب ہوا بلکہ اس ساری صورتحال کے بعد پاکستان کے کردار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان بھی ہندوستان ہی کی طرح کا غاصب ہے اور کشمیریوں کے آذادی کی جدوجہد میں بڑی رکاوٹ بھی پاکستان ہی ہے
لائن آف کنٹرول پر دو طرفہ فاٸرنگ اور کشمیریوں کی نسل کشی میں بھارت اور پاکستان برابر کے شریک ہیں بلکہ ریاست کے ایک حصے (لداخ) پر پاکستان کی ایما پر چین کے قبضے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے

پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں ماحولیاتی آلودگی پر طویل بھاشن دیا لیکن حقیقت میں پاکستان کے زیر قبضہ ریاست جموں کشمیر کے دریاوں کا رخ موڑ کر اور انہیں اندھی سرنگ میں ڈال کر مظفر آباد کی دس لاکھ آبادی کو عملا موت کے منہ میں دھکیل دیا
جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ریاست جموں کی وحدت کی بحالی اور مکمل آذادی کے لیے پاکستان کی طرف سے مسلط کردہ غلامی کی تمام دستاویزات ، معاہدہ کراچی اور ایکٹ 74 کے خاتمہ اور ریاست کے تینوں اطراف سے غیر ملکی غاصب افواج کے مکمل انخلا کے لیے گلی گلی اور شہر شہر آگاہی مہم کا آغاز کریں گے اور پہلے مرحلے میں مقامی سطح پر لوگوں کو موبلاٸز کر کے دوسرے مرحلے میں بھمبھر سے مظفر آباد تک غاصبانہ قبضے کے خلاف مارچ کا انعقاد کیا جاٸے گا جس میں ریاستی عوام کو فیصلہ کن جدوجہد کے لیے تیار کر کے ریاست کی وحدت کی بحالی کے لیے فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا جاٸے گا
اجلاس سے جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے چٸیرمین یاسر ارشاد، سینٸر واٸس چیٸرمین عمر صادق ، چیف آرگناٸزر ایڈووکیٹ خطیب حسین ، ترجمان سکندر فاضل ، ممبر سینٹرل کمیٹی حافظ عبیدالرحمن ، سابق چٸیرمین احسن اسحاق ، صدر پونچھ یونیورسٹی محسن رضا، سیکریٹری جنرل سمیاب خان، صدر پولی ٹیکنکل کالج حنان بٹ ، سیکریٹری جنرل پولی ٹیکنیکل کالج جبران خان ، صدر ماونٹ کالج راولاکوٹ ثاقب ذاکر ، سینٸر رہنما ایس ایل ایف صدام حیات، انیل زاہد اور امجد حنیف سمیت دیگر کارکنان نے شرکت کی۔
شرکا کا کہنا تھا کہ معاہدہ کراچی،ایکٹ 74 اور ایکٹ کی کسی مجوزہ ترمیم کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاٸے گا ۔
ریاست کے دریاوں کے رخ موڑ کر ریاستی آباد کو شدید ماحولیاتی کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جاٸے گا
ریاست پر قابض تمام قوتوں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کی جائے گی اور ریاست کی وحدت کی بحالی اور مکمل آذادی کے علاوہ کسی آپشن پر کمپروماٸز نہیں کیا جاٸے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں