Advertisements
320

جامعہ کشمیر میں فیس وصولی کے خلاف طلبا کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری چیرمین جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ یاسر ارشاد کی دھرنے میں شرکت۔

مظفرآباد (جے کے نیوز ٹاکس)

جامعہ کشمیر میں فیسوں کی وصولی اور سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف طلبا ٕ سراپا احتجاج ہیں ۔
طلبا نے مظفرآباد اپر اڈا میں جامعہ کشمیر کے کیمپس کے سامنے تین روز سے دھرنا دے رکھا ہے۔ طلبا کے مطالبات میں کورونا واٸرس کے بعد کے بعد پیدا ہونے والی معاشی ابتر صورتحال کے پیش نظر فیسوں کو معاف کرنے کا مطالبہ سرفہرست ہے ۔ طالب علم رہنماوں کا کہنا ہے کہ یونورسٹی انتظامیہ طلبا کے یونیورسٹی میں حاضر نہ ہونے کے باوجود بس سروس سمیت دیگر سہولیات کے پیسے بھی مانگ رہی ہے جو سراسر ظلم اور ناانصافی ہے، طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی مکمل فیس معاف کی جاٸے
اس کے علاوہ طلبا کے اس دھرنے کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی ادارے اور گورنمنٹ آن لاٸن کلاسز کے نام پر طلبا کے ساتھ کیا جانے والا مذاق بند کریں یا پھر گورنمنٹ پورے آذادکشمیر میں فور جی انٹرنٹ سروس بہترین سپیڈ کے ساتھ مہیا کرے اس کے علاوہ طلبا نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے گورنمنٹ آف آذادکشمیر فوری طور پر طلبا یونین کی بحالی کا اعلان کرے تاکہ خطے کے طلبا کو درپیش مساٸل کا ترجیحی بنیادوں پر حل نکالا جا سکے

جامعہ کشمیر کے طلبا کے دھرنے میں چیٸرمین جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ سردار یاسر ارشاد نے خصوصی شرکت کی، دھرنے کے شرکا سے بات کرتے ہوٸے یاسر ارشاد کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ نہ صرف دھرنے کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے بلکہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت نے طلبا کے مساٸل کو فوری حل نہ کیا تو ایس ایل ایف اپنے ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوٸے طلبا کے مساٸل کے حل کے لیے ہر محاذ پر لڑنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور بھرپور مزاحمتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یاسر ارشاد کا مزید کہنا تھا کہ طلبا یونین کی بحالی ، فیسوں کی وصولی کے خلاف اور انٹرنیٹ کی تیز ترین سپیڈ کی فراہمی سمیت دیگر مساٸل کے حوالے ایس ایل ایف پاکسانی زیر انتظام خطے کے تمام تعلیمی اداروں کے طلبا کو منظم کر کے فیصلہ کن تحریک شروع کرے گی، ان کا کہنا تھا کہ قابض قوتوں کو واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے ورنہ اس خطے کے باشعور نوجوان کو مساٸل میں الجھا کر بالادست اور قابض قوتیں اپنے اقتدار اور ہماری غلامی کو طول دیتی رہیں گی اور ہم نسل در نسل یوں ہی استحصال ، غلامی اور جبر کا شکار ہوتے رہیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں