Advertisements
244

مہنگاٸی، عوام اور حکمران۔ تحریر: ڈاکٹر واجد بخاری


  • گندم کا آٹا ہماری خوراک کا اہم حصہ ہے اور یقینا باقی اجناس کی نسبت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں اس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے جس کے براہ راست اثرات عوام بالخصوص متوسط اور غریب گھرانوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ کورونا وائرس کی حالیہ وبا کے دوران متوسط اور غریب گھرانوں کی معیشت بھی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ میں ذاتی طورپر کئی ایسے خاندانوں کو جانتا ہوں جن میں بندشوں کے دوران نوبت فاقوں تک جا پہنچی۔ ان حالات میں سرکار نے رعایتی انراخ پر فروخت ہونے والے آٹے کی فی من قیمت میں پانچ صد روپے اضافہ کیا۔ اس نسبت ریاستی عوام بالخصوص ضلع پونچھ، باغ اور سدھنوتی کے لوگوں نے احتجاج کیا جو کہ قابل فہم اور عین متوقع ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ان اضلاع کی سیاسی اور سماجی تاریخ اور رجحانات ہیں۔ ریاستی سرکار کا موقف ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے سے غیر ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے باعث آٹے پر ادا کی جانے والی امدادی رقم یا سبسڈی کو کم کرتے ہوئے قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے تاہم دوسری جانب مظاہرین اس دلیل سے کسی طور مطمئن نظر نہیں اتے۔
    قبل ازیں اس سلسلہ میں مختلف احتجاج ہوتے رہے جن میں باغ کے نواحی علاقے ریڑھ میں ہونے والا احتجاج خاص طور پر قابل ذکر ہے جس میں ریاستی قوت کے بے دریغ اور غیر ضروری استعمال سے معاملات گھمبیر رہے اور خاصے دنوں تک عوام اور انتظامیہ کے مابین تناو اور تصادم کی فضا قائم رہی۔ تیرہ جنوری کو پونچھ ایکشن کمیٹی نے اس ضمن میں احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا جس کے باعث متذکرہ بالا اضلاع کے عوام بڑی تعداد میں احتجاج میں شامل ہوئے اور آٹے کی قیمت میں کمی کا مطالبہ کیا۔ زیادہ تصادم کی صورتحال آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کو پاکستانی پنجاب کے ضلع راولپنڈی سے ملانے والے مقام آزاد پتن پر پیدا ہوئی جب انتظامیہ نے مظاہرین کو روکنے کیلئے لاٹھی، گولی اور آنسو گیس کا دل کھول کر استعمال کیا جس کے باعث کئی مظاہرین اور اہلکار زخمی ہو گئے۔ مشتعل مظاہرین کی جانب سے پولیس چوکی کو نذرآتش کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
    اس سارے عمل کو دیکھتے ہوئے چند اہم نکات صاحبان بست و کشاد اور عوامی قیادت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں:
    آٹے کی قیمت میں کمی کا مطالبہ جائز اور مبنی بر انصاف ہے جسے پورا کیا جانا چاہیے۔
    فریقین بہر صورت پرامن رہیں اور تشدد اور جلاوگھیراو کا راستہ اختیار نہ کریں۔ اگر خدانخواستہ ایک بھی انسانی جان ضائع ہوئی تو انتہائی افسوسناک بات ہو گی۔
    طویل مدتی اقدامات کے طور پر ریاستی سرکار کو چاہیئے کہ جملہ معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنے کی راہ اپنائے۔ آمریت کی طرز پر پر امن عوام اور مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ، غیر ضروری اور وحشیانہ استعمال کسی بھی معاشرے میں قابل مذمت اور قابل نفرت عمل ہے جس کی کوئی معقول دلیل نہیں۔ ریاستی انتظامیہ اور پولیس کے طرز عمل اور معاملات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آئے روز کسی نہ کسی علاقے سے مقامی انتظامیہ اور پولیس کے منفی رویوں اور طرز عمل کی افسوسناک داستانیں منظر عام پر آرہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس ملازمیںن کو عوام پر تشدد کیلئے استعمال کرنے کی بجائے حتی الامکان کوشش کی جائے کہ پولیس جرائم اور مجرمان کے خلاف استعمال ہو۔ سنگین نوعیت کے مقدمات اور منشیات فروشی جیسے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے اور وقت کا تقاضہ ہے کہ محکمہ پولیس اپنا یہ کردار بلا حیل و حجت اور بطریق احسن ادا کرے۔ متکبرانہ اور مادر پدر آزاد ذہنیت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انسانی جان کی حرمت کی بابت آگاہی دی جائے۔ عوام پر تشدد اور ناجائز خوری کے خلاف موثر قانون سازی کی جائے۔ پولیس ملازمیںن کے مسائل حل کیے جائیں اور محکمہ کو کم ازکم اتنے وسائل ضرور فراہم کیے جائیں کہ کار سرکار کی انجام دہی کے اخراجات سائلین کو اپنی گرہ سے ادا کرنے کی نوبت نہ آئے اور یوں عوام کے یہ محافظ صحیح معنوں میں عوام کے محافظ بن سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں